ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / یمن، شام،عراق میں لڑائی کے لیے فوج کی تشکیل کا ایرانی اعتراف

یمن، شام،عراق میں لڑائی کے لیے فوج کی تشکیل کا ایرانی اعتراف

Fri, 19 Aug 2016 17:26:46    S.O. News Service

اسرائیل 23سال بعد دنیا کے نقشے سے مٹ جائے گا:جنرل فلکی

تہران،19اگست؍(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)ایرانی پاسداران انقلاب کے سینیر عہدیدار اور شام میں ایرانی فوج کے کمانڈر جنرل محمد علی فلکی نے اعتراف کیا ہے کہ تہران نے فیلق القدس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کی کمان میں شیعہ فریڈم آرمی کے نام سے ایک فوج تشکیل دے رکھی ہے جو بہ قول ان کے اس وقت تین اہم محاذوں عراق، شام اور یمن میں لڑائی میں شامل ہے۔پاسداران انقلاب کی مقرب فارسی نیوز ایجنسی مشرق کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جنرل علی فلکی نے کہا کہ جنرل سلیمانی کی زیرکمان شیعہ فریڈم آرمی میں صرف ایرانی ہی نہیں بلکہ ان خطوں کے لوگ بھی شامل ہیں جہاں یہ آرمی لڑائی میں شریک ہے۔ایک سوال کے جواب میں جنرل فلکی نے کہا کہ جنرل سلیمانی کی زیرقیادت شام میں لڑنے والی فورسز پاسداران انقلاب ہی کا حصہ ہیں۔ جب بالواسطہ طور پر جنگ میں ہمیں افراد کار میسر ہیں تو پاسداران انقلاب کو براہ راست اس جنگ میں جھونکنے کی کیا ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ شام میں ایرانی فوج کا اہم کردار محاذ جنگ پرعسکری رہ نمائی، جنگی تربیت اور لڑائی کے طریقہ کار سے آگاہ کرنا ہے۔ایک دوسرے سوال کے جواب میں جنرل فلکی نے دعویٰ کیا کہ شیعہ لبریشن آرمی کے قیام کا اصل مقصد اسرائیل کو دنیا کے نقشے سے مٹانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگلے 23 سال میں اسرائیل کو نیست ونابود کردیا جائے گا۔ اس وقت ہماری تشکیل کردہ شیعہ فورسز اسرائیل کی سرحدوں پر دستک دے رہی ہیں مگر ان کی توجہ عراق، شام اور یمن کے محاذوں پر مرکوز ہے۔ایک دوسرے سوال کے جواب میں جنرل فلکی نے افغان پناہ گزینوں کو موثر جنگی قوت میں تبدیل کرنے میں ناکامی پر تنقید کا بھی نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے 30سال تک افغان پناہ گزینوں کا بوجھ برداشت کیا ہے۔ ہم ان میں کسی جرات مند قائد کے ظہور کے انتظار میں رہے ہیں۔ ہمیں انتظار نہیں کرنا چاہیے تھا بلکہ لبنان کی حزب اللہ، یمن کے حوثیوں اور بحرین کے اہل تشیع کی طرح انہیں بھی منظم کرنے کی کوشش کی جانی چاہی یتھی۔البتہ جنرل فلکی نے فاطمیون بریگیڈ اور اس کی قربانیوں کی تعریف کی اور کہا کہ اس گروپ میں افغان پناہ گزینوں کو شامل کیا گیا ہے جو محض 100ڈالر کیعوض رضاکارانہ طور پر ایران کی جنگ لڑنے کو تیار ہیں۔


Share: